کہ جس طرح سنگ پارس لوہے اور تانبے کو سرخ سونے میں بدل دیتا ہے، یہ طالب کاذب کو طالب صادق بنا کر حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ جو کوئی اس رسالہ کو صدق دل سے ) مکمل پڑھ لے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسم کی برکت سے اس کی طلب پوری فرما کر اسے دنیا و آخرت میں لایحتاج کر دے گا۔ اس کا مطالعہ صرف ضروری ہی نہیں بلکہ فرض عین ہے کیونکہ اس سے مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری نصیب ہوتی ہے ۔
یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے طریقہ کے مطابق اللہ کی عطا اور اس کے فیض و فضل کی بدولت طریق تحقیق سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب مبتدی و منتہی دونوں کو معرفت الہی میں کامل کر دیتی ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے وہ عالم فاضل اور صاحب تفسیر بن جاتا ہے ۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے موجود امام اور شیخ کامل ہیں جو اپنی نگاہ کامل سے زنگ آلود قلوب کو نور حق سے منور کر کے طالبانِ مولیٰ کے نفوس کا تزکیہ فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بشری کمزوریوں اور خامیوں کو نظر انداز فرما کر ہر طالب کو اس کی طلب سے بڑھ کر نوازتے ہیں اور سب سے بڑھ کر معرفتِ الہی سے سرفراز فرماتے ہیں جس سے طالبانِ مولی محبوب حقیقی کی حقیقت سے آشنا ہو جاتے ہیں۔ محبوب کے حسن اور اس کی ذات سے عشق کو بیان کرنے کے لیے عاشقوں کی بہت سی تعداد نثر جبکہ اکثر عاشق شاعری کا انداز اختیار کرتے ہیں تا کہ محبوب کی شان اور اداؤں کو خوبصورت الفاظ کے پیراہن میں تحریر کیا جا سک
نور الہدیٰ کلاں سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی دیگر تمام تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور و معروف تصنیف ہے جس میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فقر و معرفت کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور علم باطنی کے تمام مشکل و دقیق مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کتاب کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عین نما“ کا خطاب دیتے ہوئے فقر کا نصاب قرار دیا ہے ۔ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اس تصنیف کے متعلق فرماتے ہیں:
آپ رحمتہ اللہ علیہ اس کتاب کے متعلق خود فرماتے ہیں : " جو اس کتاب کو اپنے مطالعہ میں رکھے اور اس پر عمل بھی کرے وہ صاحب توفیق عارف باللہ بن جاتا ہے اور ہمیشہ پر نور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری سے مشرف رہتا ہے۔ تمام انبیا اور اولیا اللہ کی ارواح اس سے ملاقات کرتی ہیں اور ظاہر و باطن کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہتی۔
My Experience with Sultan ul Ashiqeen کہ جس طرح سنگ پارس